فلم ایک ایسا میڈیم ہے جسے تفریحی مقاصد کے ساتھ ساتھ اس کے ذریعے بہت پیچیدہ مگر اہم پیغام کو بہت آسانی سے فلم بین تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

لاہور میں چھ سے گیارہ اکتوبر تک بچوں کے لیے دوسرے بین الاقوامی فلمی میلے کا اہتمام کیا گیا جس میں 37 ممالک کی 263 فلمیں دکھائی گئیں۔ بچوں کے لیے بنائی گئی ان فلموں میں حساس موضوعات پر مبنی فلمیں بھی تھیں۔ اگرچہ ایسی فلموں کی تعداد کم تھی لیکن ان کا اثر باقی فلموں کی نسبت زیادہ گہرا تھا۔

پاکستانی معاشرے میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا مسئلہ کافی گھمبیر شکل اختیار کر چکا ہے اور آئے دن ایسی خبریں آتی ہیں کہ کم سن بچے یا بچی کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔ بچوں کے لیےاس فلمی میلے میں اگرچہ ایسے کسی واقعے پر یا اس موضوع کی مکمل عکاسی کرنے والی تو فلم نہیں تھی البتہ ’روزنز‘ نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کی بنائی گئی ایک کارٹون فلم ایسی تھی جس نے بہت اچھے انداز میں بچوں کو بہت کچھ سمجھا دیا۔

’ اپنی حفاظت کی بات‘ نامی اس فلم میں بچوں کو بتایا گیا کہ جب کوئی غلط انداز سے جسم کے کسی نازک حصے کو ہاتھ لگائے تو بچوں کو ناصرف اس شخص سے دور رہنا چاہیے بلکہ اپنے والدین کو بتانا چاہیے کیونکہ اس میں بچوں کا کوئی قصور نہیں ہوتا اور وہ بغیر ڈرے کسی بڑے کو یہ سب بتائیں۔

اس فلمی میلے کو سکولوں کے بچوں نے اپنے اساتذہ کے ساتھ گروپوں کی صورت میں دیکھا اور اس فلم کو سکولوں کی استانیوں نے بھی بہت سراہا۔ ایک استانی غزالہ علی کا کہنا تھا کہ اس فلم نے بچوں کو وہ پیغام دیا ہے جو والدین یا اساتذہ آسانی سے نہیں سمجھا سکتے۔ ’چونکہ ہمارے معاشرے میں یہ مسئلہ کافی گھمبیر ہوتا جا رہا ہے اس لیے بچوں کو اس میں آگاہی دینا بہت ضروری ہے۔‘

چوتھی جماعت کی ایک طالبہ کے بقول اس طرح کا احساس انہیں ہو چکا ہے اور وہ بہت شرم محسوس کرتی تھیں لیکن اس فلم سے انہیں معلوم ہوا کہ اگر ایسا ہو تو فوراً والدین کو بتانا چاہیے۔

ایڈز ایسا مرض ہے کہ جس کے بارے میں بچے تو کیا بڑ ے بھی کئی طرح کے شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ بھارت کے ایک ریان انٹرنیشنل سکول کے بچوں کی بنائی گئی ’میں ایک عام بچہ تھا‘ نامی فلم کافی اثر انگیز تھی۔ فلم ایک ایسے بچے کی تھی جس کے بارے میں جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایڈز کے مرض میں مبتلا ہے تو ارد گرد کے لوگوں خصوصاً اس کے ہم جماعتوں کے رویے بدل جاتے ہیں۔ اس فلم میں پیغام دیا گیا کہ ایڈز کی بیماری مریض کو چھونے یا اس کے ساتھ رہنے ساتھ کھانا کھانے سے نہیں پھیلتی۔

اس فلم کو دیکھنے والے بچوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا خیال تھا کہ ایڈز کا مرض ہاتھ لگانے سے بھی ہو جاتا ہے۔ بچوں کا کہنا تھا کہ انہیں یہ پیغام ملا کہ ایڈز کے مریض کے ساتھ نفرت نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس کا خیال کرنا چاھیے۔

میلے میں ممبئی حملوں کے بعد بنائی گئی ایک مختصر دورانیے کی فلم میں ایک ہندو اور ایک مسلمان بچے کی دوستی دکھائی گئی جو ممبئی حملوں کے سبب ختم ہو گئی۔ فلم میں یہ پیغام تھا کہ دہشت گردی کے سبب اگر کوئی دوستی ختم ہوتی ہے تو یہ دہشت گردوں کی فتح ہے۔

اکثر بچوں نے فلم کو پسند کیا لیکن ایک پانچویں جماعت کے بچے کی رائے کافی چونکا دینے والی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فلم میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ دہشت گرد مسلمان اور پاکستانی ہیں اور یہ بات انہیں پسند نہیں آئی کیونکہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

اس فلم میلے میں پاکستان کے نوجوان ڈائریکٹرز کی بنائی گئی مختصر دورانیے کی فلمیں بھی دکھائی گئیں۔ ٹیک ٹو نامی فلم کے خالق نثار احمد نے تسلیم کیا کہ بچوں کے حساس موضوعات پر فلموں کی بے حد ضرورت ہے جبکہ ایک اور ڈائریکٹر شاہ زمان کا کہنا تھا کہ ایسی فلمیں بننی چاہیئں جو بچوں کو مخصوص موضوعات پر علم اور آگاہی دیں۔

ایک اور نوجوان ڈائریکٹر نوید انجم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تو فلمیں بنتیں ہی نہیں تو حساس موضوعات پر فلمیں کون بنائے گا۔ ’ہمارے ڈائریکٹرز کے پاس وہ اہلیت نہیں جو خوبصورتی کے ساتھ ان موضوعات کا احاطہ کر سکیں۔‘

اس فلمی میلے کا اہتمام کرنے والے شعیب اقبال کا کہنا تھا کہ بچوں کے لیے حساس مضوعات پر فلمیں بنانا اگرچہ ایک مشکل کام ہے لیکن وہ اس پلیٹ فارم سے کوشش کر رہے ہیں کہ ایسی فلمیں بنانے کی زیادہ سے زیادہ ترغیب دی جائے اور ایسی فلموں کی کہ جن میں بچوں کے لیے آگاہی ہو۔

Originally Published by BBC Urdu

.

You may also like

Leave a Reply